کور / تازه خبرونه / جنرل اشفاق کیانی نے فوج کی کمان سنبھال لی

جنرل اشفاق کیانی نے فوج کی کمان سنبھال لی


راولپنڈی ( نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ چھوڑ دیا ہے، جس سے ان کا 46 سالہ عسکری کیریئر اور 9 سال تک چیف آف آرمی اسٹاف رہنے کا دور اختتام کو پہنچ گیا۔ جنرل پرویز نے روایتی کمان اسٹک جنرل اشفاق پرویز کے حوالے کردی، جس کے بعد انہوں نے نئے آرمی چیف کی حیثیت سے عہدہ سنبھال لیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ انہیں وردی میں نہ رہنے کا افسوس رہے گا، انہوں نے فوج کی کمان ایک ایسے شخص کو دی ہے جو بہترین سپاہی ہے۔ وزارت دفاع نے جنرل پرویز کی جانب سے فوجی عہدہ چھوڑنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ بعد ازاں جنرل اشفاق کیانی نے صدر پرویز مشرف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ بھی دیا۔ پرویز مشرف آج صبح سویلین صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پاک آرمی کی کمان نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کئے جانے کی پروقار تقریب جی ایچ کیو اسٹیڈیم راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو،وفاقی کابینہ کے ارکان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجید، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل تنویر محمود احمد اور پاک بحریہ کے سربراہ،ایڈمرل محمد افضل طاہر سمیت اعلیٰ سول وفوجی افسران نے شرکت کی۔ جنرل پرویز نے نے پاک آرمی کے دستوں پر مشتمل اعزازی گارڈ کا معائنہ کیا،اعزازی گارڈ نے انہیں سلامی دی۔ صدرپرویز مشرف نے کمان کی روایتی چھڑی نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو پیش کی۔ اس تقریب میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بری فوج کے سپہ سالار کا عہدہ سنبھالا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے انکی قیادت پر اعتماد اور وفاداری کا اظہار کیا۔ جنرل پرویز نے کہا کہ انہیں وردی میں نہ رہنے کا افسوس رہے گا، وہ ایسی آرمی چھوڑ کر جا رہے ہیں جو داخلی وخارجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح لیس ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ46 سال تک وردی میں رہ کر فوج کی خدمت کرتے رہے اور انہوں نے جو کچھ سیکھا وہ فوج کی ملازمت میں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں شامل ہونے پر انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس کیلئے جان بھی دینگے۔ جنرل پرویز نے کہا، ہم نے اس قوم کو ملک کو آگے لے جانا ہے جو رکاوٹ بنے گا اسے ٹھوکر مار کر ہٹا دیں گے، میں نے بڑی بڑی جگہوں پر اس فوج کے ساتھ تکالیف اٹھائی ہیں، میں نے آج فوج کی وردی اتار دی ہے لیکن میرا دل و دماغ ہمیشہ فوج کے ساتھ رہے گا، میں نے فوج کی کمان ایک ایسے شخص کے سپرد کی ہے جو ایک بہترین سپاہی ہے۔